امی ! ابو کے لیے کوئی " لیٹر"آ یا ہے شاید کوئی گورنمنٹ لیٹر ہے زوہان کے ہاتھ میں کوئی پیک کیا ہوا لفافہ تھا اور وہ اسے امی کی طرف لاتے ہوئے بول رہا تھا ۔
اچھا ادھر مجھے دے دو تمہارے بابا آئے گے تو میں ان کو دکھاتی ہوں کے کیا ہے یہ؟
مہر یار اب تو پانچ سال ہو گئے ہیں اس واقع کو تم آج بھی اسی کا انتظار کر رہی ہوں یار تمہیں برا نا لگے تو ایک بات کرو وہ مہر کے ساتھ صوفے ہے بیٹھی بول رہی تھی ۔
ہاں بولو ! مہر اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی اس نے گولڈن کلر کی فراق پہن رکھی تھی جو اس کے ٹخنوں تک تھی اور اس کے بال پہلے سے بھی کافی بڑے ہو گئے تھے اس نے بال کھلے رکھے ہوئے تھے وہ کھلے کالے بالوں اور گولڈن فراق میں وہ پرستان سے آئی ہوئی پری لگ رہی تھی وہ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ہوگئی تھی ۔ وہ اپنے لاسٹ سمسٹر کے بعد اب یونیورسٹی کی طرف سے ملنے والی پارٹی میں آئی ہوئی تھی ۔
مریم تم میری دوست نہیں بہن ہو مجھے تمہاری کوئی بات بری نہیں لگے گی تم بے فکری ہو کر بولو.
مہر تم نے اس کا پانچ سال انتظار کیا ہے اس کے انتظار میں تم نے بہت سے لوگوں کے دل توڑے ہیں یہ تم بھی جانتی ہو اور میں بھی جانتی ہوں کے " زاویار " جو ہماری یونیورسٹی کا ٹوپر ہے وہ تمہیں کتنا پسند کرتا تھا مگر تم نے اسے بھی اگنور کردیا اس پر ساری یونی کی لڑکیاں فدا تھی مگر اس نے تمہیں پسند کیا لیکن تم تو بے وقوفوں کی طرح ایک ہی شخص کے پیچھے پڑی ہو۔
میری بات سنو مریم میں مانتی ہوں کے میں نے غلط کیا لیکن میں اپنے ماں باپ کا دل نہیں دکھانا چاہتی فرض کرو میں اس کو ہاں کہ دیتی لیکن میرے ماں باپ کو وہ اچھا نا لگتا یا اگر میں اسے دل سے قبول نا کر پاتی دل تو اس کا تب بھی ٹوٹ جانا تھا اس سے بہتر مجھے یہی لگا کے میں اس کی امیدیں بڑھنے ہی نا دوں اور ضروری نہیں ہے کہ انسان جس چیز کو چاہے اسے ہر چیز مل جائے کچھ چیزوں پر انسان کو صبر کرنا پڑتا ہے ۔
تمہاری بات بھی ٹھیک ہے لیکن تم کب تک اس کا انتظار کرو گی ؟ کس نے کہا کے میں اس کا نظارہ کر رہی اس نے مریم کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔
تو تم اسے انتظار نہیں کہتی ۔
میری کیا اوقات ہے کے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں میں دخل دے سکوں میں تو صرف زندگی گزار رہی ہوں جس طرح گزر رہی ہے ۔ اگر میرا نصیب اس کے ساتھ لکھا ہے تو وہ مجھے مل جائے گا اور اگر میرے نصیب میں کوئی اور شخص لکھا ہے تو میں اپنے اللہ کے فیصلے پر خوش ہوں اور رہی بات دوسرے لڑکوں کی تو تم جانتی ہو کے مجھے اپنی عزت سب چیزوں سے پیاری ہے اور وہ کام جس سے میری عزت پر حرف آئے میں مر کر بھی نا کروں ۔
معاف کر دو تم سے کوئی نہیں جیت سکتا کیا دماغ پایا ہے تم نے مہر ! وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھی تھی اور مہر اس کی حالت دیکھ کر بہت ہنسی تھی ۔
لیکن مجھے اس بات کا دکھ ہمیشہ رہے گا کے تم نے وہ بریسلٹ گم کر دیا جو میں نے تمہیں بہت سال پہلے دیا تھا ۔ میں اس شخص کو کبھی معاف نہیں کروں گی ایک تو میری دوست مجھ سے چھین لی دوسرا اس منحوس سفر میں میرا دیا ہوا تحفہ بھی گم ہو گیا ۔
یار اسے مت کوسو تمہیں پتا ہے کے وہ بریسلٹ مجھے کس قدر پسند تھا شاید وہ میری قسمت میں نہیں تھا ۔ اچھا اب تھوڑی دیر تک چلتے ہیں زارا آپی کا برتھ ڈے ہے ان کے لیے گفٹ بھی لینا ہے اس کے بعد گھر چلے جائیں گے ۔
امی! امی! کہاں ہیں آپ اور زارا آپی کہاں ہیں ؟
نواب چراغ الدین اب آپ کو کیا ہوا ہے اس طرح شور کیوں کر رہے ہو عنابیا غصے سے بول رہی تھی ۔ کچھ نہیں کوہستانی گڑیاں ! ا می آپ اپنے لاڈلے کو سمجھا لیں یہ مجھے الٹے سیدھے ناموں سے نا بلایا کرے وہ اب امی کی طرف جاتے ہوئے بول رہی تھی ۔
ہاں تو جو تم مجھے " بابا آدم " کے زمانے کے القاب سے نوازتے ہو وہ اس نے اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے ہوئے تھے اور اسے دیکھتے ہوئے بول رہا تھا ۔
وہ اب سترہ سال کا ہو گیا تھا مگر آج بھی وہ سب کا لاڈلا تھا۔ اچھا لڑو نہیں تم دونوں زوہان تم بتاؤ مجھے کیوں بلا رہے تھے وہ دونوں امی کے پاس بیڈ پر بیٹھے ہوئے تھے ۔
امی میں نے پوچھنا تھا کے مہر آپی کہاں ہیں ابھی آئی نہیں ہیں وہ ۔
بس آنے والی ہے اگر تمہیں زیادہ جلدی ہے تو کال کرکے پوچھ لو !
نہیں امی اتنی بھی جلدی نہیں ہیں وہ شاید بازار میں ہونگی کیک وغیرہ خرید رہی ہونگی ۔
اچھا میرے پیارے بھائی مجھے یہ بتاؤ غبارے اور ڈیکوریشن کی دوسری چیزیں لے آئے ہو مہر آپی نے آتے ہی پوچھنا ہے ۔
جی " عنوں" آپی لے آیا ہوں ۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے ایسے لڑ رہے تھے جیسے دشمن ہو ایک دوسرے کے امی دونوں کو دیکھتے ہوئے بول رہی تھیں
جبکہ وہ دونوں امی کو دیکھ کے ہنس رہے تھے ۔
آج پانچ سال ہو گئے ہیں، بیٹا تم ہر سال جاتے ہو اس اسٹیشن پر مگر وہ تمہیں نہیں ملی اب تو تمہاری پڑھائی کو ختم ہوئے بھی سال گزر چکا ہے کب تک اسے ڈھونڈو گے، میری زندگی کا کچھ پتا نہیں ہے میں مرنے سے پہلے تمہاری شادی کرنا چاہتی ہوں ۔
امی اللہ میری عمر بھی آپ کو لگا دے میرا آپ کے علاؤہ اور کوئی نہیں ہے ۔ اور میری شادی کی ٹینشن مت لیں آپ کا یے خواب جلد پورا ہو جائے گا ۔
وہ بلو کلر کے ویس کوٹ میں ملبوس تھا اس کے بال آج بھی گھنجرالے تھے اس کی خوبصورت آنکھیں اسے سب سے الگ بناتی تھیں اللہ نے اسے انتہا کا حسن عطا کیا تھا ۔
اچھا منہ کھولو کہتے ہیں جب کسی خاص کام کے لیے نکلتے ہیں تو میٹھا کھا لینا چاہیے۔
چلیں امی کھلائیں اور دعا کریں کے اب وہ مجھے مل جائے مگر اب اگر وہ مجھے مل بھی گئی تو میں اسے کیسے پہنچاؤں گا وہ تو بالکل بدل گئی ہوگی ۔
اب تو اسے دیکھنے کی خواہش شدت اختیار کر رہی ہے وہ تو پہلے سے بھی زیادہ خو بصورت ہو گئی ہوگی۔
مگر میرا بیٹا بھی کسی سے کم نہیں ہے کیا ہماری سوسائٹی میں ہے تمہارے مقابلے کا کوئی ۔
اچھا اب ماں بیٹے کا پیار ختم ہو گیا ہو تو چلیں ۔
ارے ! ارسلان بیٹا تم کب آئے ؟
اسی وقت جب آپ سوسائٹی کے سارے لڑکوں کی برائیاں کر رہی تھیں اور اپنے بیٹے کی تعریف ۔ ویسے واقعی آنٹی "نین" جیسا کوئی نہیں وہ نین کو گلے لگاتے ہوئے بول رہا تھا ۔ اچھا اب چلتے ہیں ایسا نا ہو کے بھا بھی بھی اسے ڈھونڈنے آئی ہو اپنی کسی دوست کے ساتھ اور ہم دیر سے پہنچنے اور وہ چلی جائیں کیا پتا بھا بھی کی دوست مجھے پسند کر لے وہ قہقہے لگاتا ہوا بول رہا تھا ۔
میرا نصیب بھی جاگتا جاگتا سو، نا جائے ۔
تمہیں کیسے پتا کے وہ اپنی دوست کے ساتھ آ یے گی بولو !
تم بھی تو مجھے ہر جگہ ساتھ لے کے جاتے ہو تو ، کیا بھابھی کی کوئی دوست نہیں ہوگی وہ منہ بنا کے بول رہا تھا۔
اچھا اچھا بس اب چلتے ہیں امی دعا کرکے گا کے وہ مجھے اب تو مل جائے ۔ وہ امی کو گلے لگاتے ہوئے بول رہا تھا ۔
انشاللہ اگر وہ تمہاری قسمت میں ہے تو وہ تمہیں ضرور ملے گی ۔