وہ اپنا کارلر سیدھا کرتے ہوئے بول رہا تھا ۔ " او مسٹر مجنوں " میں کہ رہی ہوں کہ آگے سے ہٹو میں نے جانا ہے ۔ پتا نہں ہر وقت کس خوش فہمی میں رہتے ہو ۔ ابھی وقت ہی کتنا ہوا ہے آپ کو میرے ساتھ کھڑے ہوئے وہ مسکرا کر بول رہا تھا ۔
میں اور زیادہ دیر یہاں رکنا بھی نہیں چاہتی ورنہ تمہارے منہ سے تمہاری تعریفیں سن سن کہ میں پاگل ہو جاؤ گی ۔
لیکن میں تو پاگل ہو گیا ہوں ۔کیا مطلب ہے تمہارا ؟ کچھ نہیں اس سے پہلے کہ اس بندہ ناچیز کی توقعات اور بڑھے آپ جائیے ۔
ہاں جیسے مجھے تو بہت شوق ہے یہاں رک کے تمہاری میٹھی میٹھی باتیں سننے کا ۔ وہ منہ بناتی وہاں سے چلی گئی تھی ۔
عجیب لڑکی ہے لیکن لڑائی کرنے میں میرے مقابلے کی ہے وہ اسے دور جاتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔
اس نے مر کر دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ اسے ادھر منہ کرنے کا اشارہ کر کے ٹرین میں داخل ہوگئی تھی وہ اب چائے کے اسٹال پر بیٹھ گیا تھا ۔
وہ اپنی جگہ پر آ کر بیٹھ گئی تھی ۔ امی نے اس سے پوچھا کہ اتنی دیر کیوں لگا دی زوہان کب سے تمہیں بلا رہا تھا ۔ بس وہ گجرے دیکھ رہی تھی لیکن کوئی اچھا ہی نہیں تھا سب ایک جیسے بنے ہوئے تھے ۔
اب بس بھی کرو تم تو تفتیش ہی کرنے لگ گئی ابو نے امی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔ ابھی ٹرین اسٹا رٹ ہو جائے گی کوئی چیز کھانی ہے تو بتا دو میں لے آتا ہو ابو نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔
نہیں بابا ابھی تو گول گپے کھائے ہیں اگلے اسٹیشن سے لیں لے گے جو بھی لینا ہوا ۔ زارا نے جواب دیا تھا ۔
ٹرین اسٹا رٹ ہو چکی تھیں سب مسافر ٹرین پر سوار ہو چکے تھے ۔ ابو اوپر کے برتھ پر لیٹ گئے تھے اب اگلا اسٹیشن ایک گھنٹے کے سفر کے بعد آئے گا میں ذرا سو رہا ہوں پھر مجھے اٹھانا میں کچھ کھانے کیلئے آپ سب کو لا دوں گا ۔ وہ سب لیز نمکو اور بسکٹ وغیرہ کھا رہے تھے جبکہ مہر سوچوں میں گم تھی ۔" کتنا پاگل انسان تھا ہر بات کا الٹا جواب دیتا تھا پر میں نے بھی کوئی کم نہیں کی میں نے بھی اسے صحیح سبق سکھایا ہے " ۔
" جھانسے کی رانی " وہ مسکرا رہی تھی اور اس کے ان الفاظ کو دہرا رہی تھی ۔ ویسے اتنا برا بھی نہیں تھا میں نے ویسے ہی اسے ڈانٹ دیا اب اگر ملا تو اس کا شکریہ ادا کر دوں گی اور سوری بھی کر لوں گی ۔
کیا سوچ رہی ہو مہر زارا آپی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔ کچھ نہیں بس ویسے ہی خاموش بیٹھی ہوں۔ یہ لیں آپی مہر اپنا موبائل زوہان نے اس کی طرف موبائل بڑھاتے ہوئے کہا تھا ۔یاد آگیا کہ یے میرا موبائل ہے اس نے زوہان سے موبائل پکڑنے ہوئے کہا تھا ۔
نہیں وہ نیٹ نہیں چل رہا یہاں ۔ اچھا یہ بات ہے میں بھی سمجھی یہ نظر کرم کیسے ہوگیا ۔
اب انہیں ٹرین میں بیٹھے کافی وقت ہو چکا تھا ۔ امی وہ یہاں نیٹ نہیں چل رہا میں نے مریم کو بتانا ہے کہ ہم گاؤں کے لئے روانہ ہو گئے ہیں تو میں زرہ دروازے کے پاس جا رہی ہوں چلی جاؤ ں امی ؟ اس نے امی سے اجازت لی تھی ۔
ہاں چلی جاؤ مگر جلدی آ جانا ۔ اوکے امی اس نے اٹھتے ہوئے کہا تھا ۔ پتہ نہیں وہ ٹرین میں سوار ہوا ہوگا یا وہ اسٹیشن گھومنے کیلئے آیا ہوا تھا ۔
وہ سوچو میں گم آگے جارہی تھی کہ اس کی کسی سے ٹکر لگی تھی میرا موبائل وہ جلدی سے اپنا موبائل اٹھانے کیلئے نیچے جھکی تھی ۔
" ایم سو سوری " دوسری جانب سے آواز ابھری تھی۔ "کوئی بات نہیں " وہ اوپر اٹھتے ہوئے بول رہی تھی ۔
" تم " وہ دونوں ایک ساتھ بولے تھے ۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ او مس یے ٹرین آپ کی نہیں ہے جس طرح آپ یہاں پر سفر کر رہی ہیں میں بھی ایسے ہی سفر کر رہا ہو ں ۔
"تمہیں پتا میں ابھی کیا سوچ رہی تھی ۔"
" نہیں " اس نے شانے آ چکائے تھے ۔ میں بھی کس پاگل کو سمجھا رہی ہوں " میں کتنے اچھے خیالات لے کے یہاں سے گزر رہی تھی کہ ،تم ملے تو تمہارا شکریہ ادا کرو گی ۔
مگر تمہیں دیکھتے ہی میرا " پارہ ہائی " ہو جاتا ہے میرا دل کرتا ہے کہ کوئی ہتھوڑا ہو اور وہ میں تمہارے سر پہ دے مارو ۔
او تو تم میرے بارے میں سوچنے بھی لگی ہو وہ اس کے کان میں بول رہا تھا ۔
جی نہیں تم کسی خوش فہمی میں مت رہنا ہٹو اب جانے دو مجھے میں زیادہ دیر یہاں رکنا نہیں چاہتی کیونکہ تم پھر کسی ریڈیو کی طرح چالو ہو جاؤ گے اور اپنی تعریفیں کر کر کے میرے کان پکا دو گے ۔
اب جاؤ بھی کھڑی کیوں ہو میں تو کب سے چپ کھڑا ہوں تمہارا ہی دل نہیں کر رہا جانے کا باتوں کے بہانے کھڑی ہو یہاں ۔
اب یے تم منہ میں کیا پڑھ رہی ہو جلدی بتاؤ کون سا منتر ہے یہ، وہ جلدی جلدی پوچھ رہا تھا ۔
اللہ کی پناہ مانگ رہی ہوں تم جیسے شیطان سے وہ اب جانے کے لیے مڑی تھی ۔
تم نے مجھے شیطان کہا رکو میری بات سنو وہ اس کے پیچھے چل رہا تھا ۔
اب دیکھ لو کون کس کا پیچھا کر رہا ہے وہ چلتے چلتے بول رہی تھی جبکہ وہ اس کی اس بات پر وہی رک گیا تھا ۔
مریم سے بات ہو گئی تمہاری اسے دیکھ کے امی نے پو چھا تھا ۔ جی ہوگئی ہے امی اس نے جواب دیا تھا ۔
باہر بادل آگئے ہیں مجھے لگتا ہے بارش ہونے والی ہے عنابیا نے باہر دیکھتے ہوئے بولا تھا ہاں مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے ابو نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی ۔ یہ سفر ہمیں ہمیشہ یاد رہے گا کتنا خوش گوار سفر ہے یہ ہلکی ہلکی ہوا کتنا خوبصورت احساس دلا رہی ہے ۔ وہ گویا اس موسم میں کہیں گم سی ہو گئی تھی اسے ہر طرف اس کے قہقہوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھی وہ خود بھی نہیں
جانتی تھی اس کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے اس کے دماغ میں اسی کی باتیں گونج رہی تھی ۔ مجھے تو لگتا ہے میں پاگل ہو گئی ہوں یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ وہ بڑبڑائی تھی۔
کچھ کہا تم نے مہر امی نے اس سے پو چھا تھا ۔ میں نے نہیں تو میں نے تو کچھ نہیں کہا وہ ایک دم سے سنبھلی تھی۔
وہ آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا اچانک اس کی آنکھ کھلی تو وہ اس کے سامنے کھڑی اسے گھور رہی تھی تم پھر آگئی اب میں نے کیا ، کیا ہے ؟ مجھے غصے سے کیو دیکھ رہی ہو ۔ وہ وہاں سے غائب ہو گئی تھی ارے تم کہا گئ اس نے اپنی آنکھیں مسل کر دیکھا تھا یہاں تو کوئی بھی نہیں تھا تو پھر وہ مجھے نظر کیوں آئی تھی مجھے تو لگتا ہے کہ اس نے مجھ پہ جادو کر دیا ہے اس وقت وہ کون سا " منتر " پڑھ رہی تھی مجھے کیسے پتا چلے گا کہ اس نے مجھ پر جادو کیا ہے ۔
ٹرین اسٹیشن پر پہنچ چکی تھی وہ سب خوش گوار موسم سے لطف اٹھانے کا لیے باہر آگئے تھے ہلکی ہلکی بارش برس رہی تھی اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی رات ہو چکی تھی وہ اب ایک ریسٹورنٹ پر رات کا کھانا کھا رہے تھے وہاں بہت سے اور مسافر بھی تھے وہ شاید ادھر اُدھر اسے ہی تلاش کر رہی تھی مجھے ڈھونڈ رہی ہو اسے کسی کی آواز سنائی دی تھی مگر وہاں کوئی بھی نہیں تھا ۔ وہ اپنی اس حالت پر مسکرا رہی تھی ۔
کھانا تو بہت مزے کا تھا ان کا اس نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا کھانا واقعی مزے کا تھا زارا نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا تھا ۔
ابو بل ادا کرنے چلے گئے تھے جب کہ وہ سب ریسٹورنٹ سے باہر چلے گئے تھے وہ اب چائے کے اسٹال پر پہنچ گئے تھے ۔
چائے پینے کے بعد انہوں نے کچھ اسنیکس خریدے تھے اور اب وہ ٹرین میں سوار ہو چکے تھے ۔
وہ کھانا کھا کر اور چائے پی کر اب وہیں اسٹیشن پر گھوم رہا تھا بارش برسنا بند ہو گئی تھی مگر موسم بے حد خوش گوار ہو گیا تھا ۔
ہر طرف ٹرین کی سیٹی کی آواز گونج رہی تھی سارے مسافر ٹرین میں سوار ہورہے تھے ۔ وہ سیاہ پینٹ شرٹ میں کسی ہیرو سے کم نہیں لگ رہا تھا اور اس کے گھنجرالے بال گیلے ہو کر اب اور بھی خوبصورت لگ رہے تھے وہ بھی ٹرین میں سوار ہو چکا تھا ۔
ابو اب اور کتنا سفر رہ گیا ہے؟ زوہان نے پو چھا تھا ۔
بس اگلے اسٹیشن پر ہم اتر جائیں گے اس سے آ گے پھر چاچو لوگ ہمیں آکر لے جائیں گے ابو نے جواب دیا تھا ۔
ٹرین آہستہ آہستہ چلنا شروع ہو گئی تھی وہ ٹرین کے دروازے کے پاس ہی کھڑا تھا ۔
وہ سب اب دوبارہ سے آرام کرنے کےلئے لیٹ گیے تھے وہ بھی ٹیک لگا کر سو گئی تھی ۔ اسے پھر سے اس کے قہقہوں کی آواز سنائی دے رہی تھی " اف خدایا " اب اس کی آوازیں مجھے سونے بھی نہیں دیں گی وہ ایک جھٹکے سے اٹھی تھی ۔ وہ سب سو چکے تھے ۔ امی مجھے نیند نہیں آ رہی میں تھوڑا چکر لگا کے آتی ہوں اس نے امی کو اٹھا کر بتایا تھا ۔
وہ دروازے کے پاس جا کر دوسری طرف رخ کرکے باہر کے مناظر دیکھ رہی تھی ۔ اس نے کسی کی آواز سنی تھی شاید کوئی موبائل پر کسی سے بات کر رہا تھا ۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسے وہ اپنے پیچھے کھڑا دکھائی دیا تھا ۔
تم میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ رہے اس نے اس کا مو بائل کھینچ کر کال کٹ کر دی تھی ۔ میرا موبائل واپس کرو ۔
پکڑو اپنا موبائل ۔ " میرا موبائل واپس کرو " اس نے اس کی ایکٹنگ کی تھی ۔
وہ دل کھول کر اس کی اس حرکت پر ہنسا تھا ۔
تمہیں کوئی حق نہیں ہے مجھ پر ہنسنے کا ۔ سمجھے تم !
میں نے تو صرف تمہیں بچانے کے لیے تمہیں اپنی بیوی بولا تھا تم تو سچ میں مجھ پر حق جمانے لگی وہ ہنستے ہوئے بول رہا تھا ۔
تو تم میرے خواب میں کیا ' اس نے زبان دانتوں تلے دبا لی تھی ۔
کیا، کیا ،کیا کہا تم نے میں تمہارے خوابوں میں بھی آنے لگا ہوں اس نے فوراً اس کی بات پکڑی تھی ۔
ہاں نا تم میرے خواب میں آئے تھے ۔
اس کی بات سن کے اس نے اپنا کارلر سیدھا کرنے کی ایکٹنگ کی تھی ۔
خواب میں آپ بالکل میرے سامنے کھڑے تھے اور میں نے توپ سے آپ کو اڑا دیا تھا ۔
اس کے ہاتھ وہی رک گئے تھے ۔
کیسا لگا میرا خواب بتاؤ نا ،بولو نا ۔
ہاہاہا بہت اچھا خواب تھا چلو اب جاؤ یہاں سے۔
" ہوں جاؤ یہاں سے " میں ویسے بھی جارہی ہوں وہ ناک چراتے ہوئے جاچکی تھی ۔
وہ بھی واپس جانے کے لیے مڑا تھا اسے زمین پر کوئی چیز گری ملی تھی ارے تمہارا بریسلیٹ اس نے بریسلیٹ اٹھاتے ہوئے بولا تھا ۔ رہنے دیتا ہوں واپس آگئی تو پھر کہے گی کی اس سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہوں میں اس نے بریسلیٹ اپنی جیب میں ڈال لیا تھا اور وہ اپنی سیٹ کی طرف بڑھ گیا تھا ۔
وہ اب سو چکی تھی ۔ چلو اٹھ جاؤ اسٹیشن آگیا ہے ٹرین رک گئی تھی ابو سب کو اٹھا رہے تھے ۔
وہ سب اترنے کے لیے کھڑے ہو گئے تھے ۔ وہ اب بینچ پر بیٹھ گئے تھے اور اب انہیں چچا لوگو نے لینے آنا تھا ۔
وہ بھی ان کے ساتھ ہی اسٹیشن پر اترا تھا ۔ او یہ بھی ادھر ہی اترا ہے مطلب یہ اسی شہر میں رہتا ہے وہ سوچ رہی تھی " ایک منٹ یہ ادھر ہی رہتا ہے اس بات سے مجھے اتنی خوشی کیو ہو رہی ہے " وہ اپنی سوچ پر حیران تھی۔
وہ اب بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی جو سامنے کے اسٹال سے کچھ چیزیں خرید رہا تھے ۔ وہ اچانک سے مڑا تھا او یہ مجھے دیکھ رہی تھی ۔
وہ جلدی جلدی اپنا دوپٹہ ٹھیک کرنے لگ گئی تھی اس نے دیکھا تو نہیں کہ میں اسے دیکھ رہی تھی وہ اب ہاتھوں کو مسلتے ہوئے سوچ رہی تھی ۔
ٹرین کی سیٹی کی آواز گونج رہی تھی ٹرین اب دوبارہ چلنے کے لیے تیار تھی سارے مسافر ٹرین پر سوار ہو چکے تھے۔
وہ ادھر کھڑا اسے دیکھ رہا تھا ۔ وہ کسی کی نگاہوں کی تپش محسوس کر رہی تھی جیسے کوئی اسے بہت غور سے دیکھ رہا ہو ۔ وہ مجھے کیوں دیکھ رہا ہے ۔ وہ اسے دیکھ کر بول رہی تھی ٹرین آہستہ آہستہ چل رہی تھی ۔
وہ بھاگ کر ٹرین میں سوار ہو گیا تھا وہ ابھی بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
وہ ٹرین میں سوار کیوں ہوا وہ تو ادھر ہی اترا تھا وہ کیوں جارہا ہے اسے نہیں جانا چاہیے وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی وہ اسے روکنا چاہتی تھی مگر وہ اس سے دور جارہا تھا بہت دور ۔
اس کی آنکھوں سے آنسوں گال کو چھو کر نیچے گر چکا تھا وہ اس سے کہنا چاہتا تھا کے ہم پھر ملیں گے پھر کسی موڑ پر کسی خاص جگہ کیا تم میرا انتظار کرو گی ؟ وہ اس سے پوچھنا چاہتا تھا مگر اب شاید بہت دیر ہو گئی تھی ۔
کیا ہم دوبارہ کبھی ملیں گے ؟ کیا یہ سفر ادھر ہی ختم ہو گیا؟ کیا لوگ مل کر ایسے ہی بچھڑ جاتے ہیں اس کی آنکھوں سے آنسوں بھر آئے تھے مگر وہ خود پر ضبط کیے ہوئے تھی ۔ وہ غم سب سے شدید ہوتا ہے جب انسان کی آنکھیں نم ہوں مگر وہ کھل کر رو، نا پائے جب وہ اپنی قیمتی چیز کھو چکا ہو میں آج اپنی زندگی کی سب سے قیمتی خوشی کھو چکی ہوں وہ اب رو دی تھی مگر کوئی دیکھ نا لے اس ڈر سے وہ فوراً اپنا منہ صاف کرنے لگی تھی ۔ٹرین اب اسٹیشن کی روشنیوں سے دور جارہی تھی اور وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے
"تم اتر گئے"
تم اتر گئے کسی انجانی سی راہ پر،
میں سفر میں ہی تمہیں ڈھونڈتا رہا۔
ریل تو اپنی منزل کو چلتی رہی،
میرا دل مگر وہیں رکتا رہا۔
نہ الوداع کہا، نہ پلٹ کر دیکھا،
بس ایک لمحہ تھا... جو گزر گیا۔
کھڑکی سے آخری بار جو چہرہ دیکھا،
وہ بھی دھند میں کہیں بکھر گیا۔
شاید قسمت کو یہی منظور تھا،
ہم ملے بھی تو بچھڑنے کے لیے۔
ایک سفر نے عمر بھر کی یاد دے دی،
اور تم چلے گئے ہمیشہ کے لیے۔
اب جب بھی کسی اسٹیشن پر رکتا ہوں،
ہر چہرے میں تمہیں ڈھونڈ لیتا ہوں۔
لوگ کہتے ہیں وقت سب بدل دیتا ہے،
میں آج بھی وہیں تمہارا انتظار کرتا ہوں
وہ اب اپنی سیٹ کی طرف جا رہا تھا وہ چلتے چلتے رک گیا تھا وہ اس جگہ کھڑا تھا جہاں کچھ دیر پہلے وہ بیٹھی تھی ۔
یہ جگہ اب بھی یہی ہے... بس تم نہیں ہو۔
ہوا اب بھی چل رہی ہے، مگر اس میں تمہاری خوشبو کہیں کھو گئی ہے۔
عجیب بات ہے... لوگ کہتے ہیں سفر ختم ہو گیا، مگر میرا سفر تو تمہارے جانے